Mullah Omar
Mullah Omar

American and Mullah Omar

برطانوی اخبار دی گارجین نے انکشاف کیا. کہ افغان طالبان کے بانی اور سابق امیر ملا عمر کو امریکی بیس کے قریب کئی سال تک رہائش رکھنے کو باوجود تلاش کرنے میں ناکام رہی. اس کے ساتھ ساتھ یہ رپورٹ سامنے آئی. کہ وہ 2013 میں ہی زابل میں انتقال کر گے تھے. گارجین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے. کہ ڈچ صحافی اور مصنف بیڈ ڈیم کی کتاب سرچنگ فار اینمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا. افغانستان میں وہ امریکی بیس سے چند فاصلے پر رہتے تھے. جب کہ ان کے سر کی قیمت 1 کڑور ڈالررکھی ہوئی تھی.

صحافی نے دعوی کیا کہ امریکی فوج نے ان کے گھر پر کاروائی کی تھی. مگر امریکی فوج ناکام رہی. وہ اپنے گھر کے خفیہ کمروں‌میں موجود تھے. جبکہ امریکی فوج ناکام رہی. برطانوی اخبار کے مطابق نئی کتاب میں ہونے والے انکشافات کو امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کو بدترین ناکامی قرار دیا گیا. کیونکہ امریکہ میں نائن الیون کے بعد ملا عمر کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر رکھ دی گی تھی.

امریکہ اور یورپ خود اپنے ہی ملک میں دہشتگردی کے نیٹ ورک سے بے خبر

اس رپورٹ کے مطابق حکام کی جانب سے یہی کہا جارہاتھا. کہ القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی طرح پاکستان میں موجود ہونے کا تصور کیا جا رہا تھا. جبکہ وہ ان کے بیس کے پاس ہی رہتے تھے. کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھہ کہا گیا. کہ 2001 کے بعد ملا عمر کے طالبان پر عملی کنٹرول کو بھہ واضع کیا گیا. اس کے علاوہ 2013 میں ان کی وفات کے بعد دو سال تک انہیں اپنا سربراہ مانتے رہے. اور تاحیات اپنا سربراہ تسلیم کرتے رہے.

ایک رپورٹ کے مطابق ملا عمر بی بی سی کی نشریات سنتے تھے. اور اپنا ردعمل بہت کم دیتے تھے. حتی کہ اسامہ بن لادن کی وفات پر بھی کوئی پیغام نہیں دیا. کتاب میں شائع کیے جانے والے مواد کے حوالے سے بتایا. کہ طالبان دور کے اہم رہنما جبار عمری سے ایک ملاقات ہوئی. جو ملا عمر کی زندگی کی سچی کہانیاں سنانے کا مصدقہ ذریعہ تھا.

American and Mullah Omar is mouse and cat game. Every time America not able to catch mullah omar. British news highlights Omar living near American base.

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Connect with: